بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

پروفیسر ڈاکٹر فائق صدیقی قادری بدایونی کی تصنیف کردہ ساٹھ (۶۰) کتب
Image
۱۳۵۴ شعبان ۲۱ سے ۱۴۳۷ جماد ی الاوّل ۲۶

کتب

:دینی کتب

قرآن حکیم کے احکامات .1

(تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو AHKAMULQURAN.COM )

تفسیر سورۂ فاتحہ .2

(محمد بلال صدیقی کی فرمائش پر مختصر کتابچہ)

متاع آخرت .3

(حضور اکرم ﷺ کی نعتوں کا مجموعہ)

کہیں بندے سے بھلا حمد و ثنا ہوتی ہے                           یہ بھی توفیق درشہِ ﷺ سے عطا ہوتی ہے۔

(فائق بدایونی)

اکابرین اسلام .4

یہ کتاب حضور نبی کریم ﷺ۔۔۔ ۲۵ دیگر انبیائے کرام علیہم السّلام ۔۔۔خلفائے راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔۔۔ عشرۂ مبشرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔۔۔ ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہما۔۔۔ بنات کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہما۔۔۔ رضائی ماؤں رضی اللہ تعالیٰ عنہما۔۔۔ پنجتن پاک علیہم السّلام۔۔۔ ائمہ اہل بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔۔۔ ائمہ فقہ رحمۃ اللہ علیہ۔۔۔ ائمہ حدیث رحمۃ اللہ علیہ۔۔۔ مفکرین اسلام رحمۃ اللہ علیہ۔۔۔ صاحبان سلسلے ہائے طریقت اور دو خاص قادری بزرگوں (حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت غلام محمد / احمد رحمۃ اللہ علیہ المعروف حضرت ابّاجی رحمۃ اللہ علیہ کے تعارفی تبصروں پر مشتمل ہے۔(

اسلامی آداب و معمولات .5

(نفسیاتی نشوونما کے مختلف مدارج کے حوالے سے اسلامی اقدار و اخلاق کی وضاحت)

:طریقت

6. اجالے

مبادیاتِ طریقت اور معروف روحانی سلاسل کا تعارف نیز فقر کی چھٹی ہستی سیدی حضرت غلام محمد / احمد المعروف حضرت ابّاجی رحمۃ اللہ علیہ کی گیارہ مناقب جو آپ رحمۃ اللہ علیہ کے عرس شریف کے موقع پر پیش کی گئیں اور ایک دعائیہ مسدس.

پیرانِ پیر دستگیر رحمۃ اللہ علیہ .7

کتاب ھٰذا میں سیدی غوث اعظم دستگیر رحمۃ اللہ علیہ کی ذات اقدس کی مبادی معلومات۔۔۔ کرامات۔۔۔ برصغیر قادریت۔۔۔ دو قادری سلسلے۔۔۔ اور قادری سلسلہ سے متعلق اہم تحریروں کا مختصر تعارف پیش کیا گیا ہے۔

8. حضرت ابّاجی رحمۃ اللہ علیہ

یہ کتابچہ آرٹ پیپر پر دیدہ زیب کتابت کے ساتھ سیّدی غلام محمد / احمد کی شخصیت اور آپؒ کے قائم کردہ قادری سلسلے کا اجمالی تعارف ہے۔ سیدی حضرت ابّاجی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت اور سلسلے پر یہ پہلی مختصر تحریر ہے جو ۲۰۰۳؁ء میں شائع ہوکر منظر عام پر آئی۔

انوکھا سلسلہ .9

یہ کتاب حضرت ابّاجی رحمۃ اللہ علیہ کے قائم کردہ اویسی نسبت پر قائم قادری سروری براہ راست غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ کی غلامی والے سلسلے اور اس کے بنیادی اصولوں کا ایک معتبر دستاویز ہے

10. ابّاجی رحمۃ اللہ علیہ کے بعد پچاس سال

یہ کتاب حضرت ابّاجی رحمۃ اللہ علیہ کے پچاسویں عرس شریف کے موقع پر پیش کی گئی جس میں آپ کے بعد "اپنے اپنے انداز میں" سلسلے کی تبلیغ و خدمت کرنے والے آپ کے محترم ہم نشینوں کے تذکرے اور سلسلہ کی پچاس سالہ تاریخ کا مختصر تعارف ہے

ہمارا سلسلہ یا برادری .11

باہم اندرونی اختلافات و محرکات کا تجزیہ
از
پروفیسر ڈاکٹرمحمد فائق صدیقی قادری بدایونی

بھری بزم میں راز کی بات کہہ کر                           خطا کر رہا ہوں عطا چاہتا ہوں



آئینہ کیوں نہ دوں .12

ندرجہ بالا دو مختصر تحریریں کتابچوں کی شکل میں ابّاجی رحمۃ اللہ علیہ کے سلسلہ کی موجودہ تصویر کشی کرتی ہیں جس میں مصنف نے انتہائی دل سوزی کے ساتھ سلسلے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں، وضعات اور بدعات (حسنہ بھی) کا حوالہ دے کر سلسلہ کے اساسی اصولوں کی نشاندہی کی ہے۔ تحریر کا انداز کہیں کہیں عاجزانہ اور کہیں ناقدانہ ہے۔

آئینہ کیوں نہ دوں

حضرت ابّا جیؒ کے سلسلہ کے مختلف حلقوں میں تقسیم
ہونے کا اسباب و محرکات کا سرسری جائزہ
از
پروفیسر داکٹر محمد فائق صدیقی قادری بدایونی
رابطہ
جیلانی پرنٹ انٹر پرائزز، موبائل نمبر 0306-2559082


:تمدن

صدیوں کا سفر .13

یہ کتاب مصنف کی پہلی غیر نصابی تحریر ہے جس میں مصنف نے تشکیل پاکستان کے حوالے سے رونما ہونے والے برصغیر کے سیاسی اور تمدنی انقلاب کے زیر اثر (بطور خاص مسلم اقلیت والے صوبوں میں) صدیوں پرانے تہذیبی ورثہ کی تباہی و بربادی سے اپنے خاندان اور اس کی روایات کو محفوظ کرنے کی شاندار کوشش کی ہے۔)

میرا بداؤں .14

اس کتاب میں مصنف نے اس صدی کا سب سے بڑا قلمی جہاد کیا ہے کہ مغربی تہذیب کی یلغارمیں مدینۃ الاولیا کے منفرد و متمیز کردار کی یاد دہانی کرواکے بدایونی اولیاوعُلماء و شعرا و دانشوروں کی خدمات کو اس طرح قلم بند کردیا ہے کہ نئی نسل کا حال اپنے ماضی کی شاندار روایات سے مربوط رہ سکے

ہمارا شجرۂ نسب .15

یہ مختصر کتابچہ وقت کی ایک اہم ترین تمدنی ضرورت کا آئینہ ہے۔ دور حاضر کی معاشی ترقیات کی بھگدڑ میں جہاں ہماری چند اہم قومی شناخت والی قدریں پائمال ہوئی ہیں ان میں سب سے بڑی پائمالی اپنے اجداد سے اپنی نسبتوں کا ٹوٹنا ہے۔ آج کتنے نوجوان ہیں جو اپنی گزری ہوئی پشتوں اور شجرۂ نسب کا شعور رکھتے ہیں کتاب ہٰذا میں مصنف نے اپنے سب سے چھوٹے پوتے محمد قاسم سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک تینتیس (۳۳) نسلوں کی نشاندہی تحقیق کے ساتھ کی ہے۔ پھر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان کے ساتوں دادا حضرت مرّہ بن کعب تک جن کے بعد حضور اکرم ﷺ اور چاروں خلفائے کا شجرہ ایک ہوجاتا ہے ساتوں نسلیں بیان کی ہیں اور اس کے آگے قریش۔ عدنان۔ قیدار اور حضرت اسماعیل علیہ السلام تک اپنا شجرہ بیان کیا ہے کہ اس سے آگے والے دستیاب شجرہ کو سرکار ﷺ نے غیر معتبر کہا ہے.

:ادبیات

انتخاب کلام فانی شرح .16

راقم کا خیال ہے کہ اردو کے شعراء ناقدین نے فانی ؔبدایونی کے کلام کو ان کی معروف دس بارہ حزنیہ غزلوں سے آگے بڑھ کر نہیں دیکھا۔ مصنف کتاب ھٰذا کے مطابق فانی کو یاسیات کا امام کہنا فانی ؔ کے ساتھ ظلم ہے۔ پورے اردو ادب کی تاریخ میں غالبؔ کے علاوہ فکر و فلسفہ حیات کے ادراک میں کوئی فانی کی گرد کو نہیں پہنچتا۔ اس قول سے صرف وہی لوگ اتفاق کریں گے جنہوں نے فانیؔ کا عمیق مطالعہ کیا ہے۔ ایک تبصرہ کے مطابق پروفیسر فائق نے "فانی کو لافانی" کردیا ہے)

طنز ہلکے ہلکے .17

یہ کتاب دور حاضر کی اعلیٰ ترین نثری و شعری ہر دو حوالے سے طنزیہ ادب کا بہترین نمونہ ہے۔ کتاب ہٰذا کے تمام انشائیے اور نظمیں ریڈیو پاکستان کے مختلف اسٹیشنز سے بالتکرار نشر ہوچکی ہیں۔ فائق بدایونی نے مختلف اضاف میں شاعری کی ہے مگر خود کو کبھی شاعر کا تشخص دینا پسند نہیں کیا۔ ان کے نزدیک طنزومزاح کے علاوہ ان کی شاعری ایک عیب ضرور ہے مگر ادب میں قابل قدر اضافہ نہیں ہے۔

جو سمجھ سکے وہ سمجھے مرا رنگ شعر گوئی
کہوں بات زندگی کی رہیں شعر بھی غزل کے

فائق بدایونی


:تعلیم و نفسیات

پروفیسر ڈاکٹر محمد فائق صدیقی بدایونی کا پیشہ ورانہ میدان ـتعلیم و نفسیات ہے۔ ان کی اسکول کی تعلیم بدایونی میں ہوئی۔ کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم کراچی میں ہوئی۔ انہوں نے اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کی تشکیل سے قبل انٹرمیڈیٹ کا امتحان جامعہ کراچی سے پاس کیا جامعئہ میں شعبۂ نفسیات کے قیام کے بعد وہ جامعۂ کراچی شعبۂ نفسیات کے پہلے طالب علم تھے۔ نفسیات کے دیگر تمام طلبہ ان کے بعد جامعۂ کراچی میں داخل ہوئے ہیں۔ تعلیم و نفسیات کی تدریس کی تقریباً چالیس سالہ مدت میں وہ لیکچرار۔ اسسٹنٹ پروفیسر۔ایسوسی ایٹ پروفیسر۔ پروفیسر۔ صدر شعبۂ نفسیات و تعلیم پوسٹ گریجویشن۔ نگراں مرکز تحقیق۔ وائس پرنسپل اور ایکٹنگ پرنسپل کی مختلف حیثیتوں سے فرائض انجام دے کر ۱۹۹۷؁ء میں ریٹائر ہوئے اور ہنواز وفاقی یونیورسٹی سے پنشن یافتہ رہیں۔ انٹر میڈیٹ اور ڈگری کلاسوں کے طلبہ کے لئے متعدد کتب اردو میں نفسیات پر تحریر کی ہیں جو کم و بیش ۴۰ سال داخل نصاب رہی ہیں۔
نفسیات پر فائق صاحب کی جو پہلی کتاب اردو میں شائع ہوئی اس پر جامعۂ کراچی کے صدر شعبہ پروفیسر قاضی اسلم صاحب نے اپنے تاثر میں لکھا ہے کہ ۔۔۔ "فائق صاحب نے اپنے ذاتی ذوق شوق سے کام لے کر اردو اصطلاحات میں نذرت اور چشتی پیدا کی ہے۔ یہ درسی کتاب جو بی۔اے ۔ تک کے لئے کافی ہوسکتی ہے نفسیات کے سائنسی لٹریچر میں ایک قابل قدر اضافہ ہے (۱۹۶۱؁)۔۔۔۔

18. تعلیمی تحقیق

) ان کی آخری نصابی کتاب "تعلیمی تحقیق" (اسلوب اور مسائل) پر تبصرہ کرتے ہوئے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمود الرحمن نے تحریر کیا۔

"The Learned author has touched up such a topic which has been hitherto out of reach for those not familiar with the foreign media. It may not be denied that Professor Faiq's findings have lit up such a lamp which golden rays are not only valuable for educationists but even for literacy giants. The lovers of Urdu language must bow their heads in respect for the author."


پروفیسر ڈاکٹر فائق صاحب کی دیگر نصابی کتب حسب ذیل ہیں

19. نفسیات

یہ کتاب پاکستان میں تحریر کی جانے والی نفسیات کی دوسری کتاب ہے، جو ۱۹۶۱؁ء میں شائع ہوئی جس پر سطور بالا میں پروفیسر ـقاضی محمد اسلم صاحب کے تبصرہ کا حوالہ دیا جاچکا ہے۔ آج یہ کتاب پاکستان میں نفسیاتی تدریس کی ایک یادگار کتاب ہے جو اردو کالج کے شعبۂ تصنیف و تالیف نے شائع کی تھی۔

20. سماجی نفسیات

یہ کتاب اپنے موضوع و مشتملات کے حوالے سے اردو میں پہلی اور واحد کتاب ہے جو ۱۹۶۶؁ء میں بی۔ اے ۔ سال چہارم کے نصاب کے مطابق تحریر کی گئی اور اسے ولی بک ایجنسی اردو بازار نے شائع کیا.

21. تعلیمی نفسیات

یہ کتاب وقت کی اہم ترین ضرورت تھی جب وفاقی گورنمنٹ اردو کالج میں ایم۔ اے تدریس کا آغاز ہو اتو فائق صاحب پوسٹ گریجویٹ شفٹ کے وائس پرنسپل اور نفسیات و تعلیم کے صدر شعبہ مقرر تھے۔ اس وقت ایم۔ اے۔ پرویس کے طلبا ء کی نصابی ضروریات کے لئے اردو میں مواد دستیاب نہیں تھا۔ فائق صاحب نے اس وقت اس موضوع پر جو نوٹس لکھائے ان کو کتابی شکل میں مرتب کیا گیا جو متعلقہ طلبہ کے لئے ایک نصابی کتاب بن گئی۔ اسی طرح ڈاکٹر فاروق جویش نے فائق صاحب کے کلاس نوٹس کو مرتب کرکے تعابلی تعلیم کو کتابی شکل دی۔

22. مسائل نفسیات

پروفیسر فائق صاحب کی پہلی کتاب شائع ہونے کے چند سال بعد انٹرمیڈیٹ کے لئے ایک ملک گیر تبدیلی یہ ہوئی کہ سال اول اور سال دوم کے نصابات علیحدہ علیحدہ مرتب کرکے دونوں سالوں کے علیحدہ علیحدہ سالانہ امتحانات ہونے لگے جبکہ اس سے پیشتر انٹر کا سالانہ امتحان دو سال بعد ہوتا تھا۔ سال اول کا نصاب نفسیات کے عمومی عنوانات و مسائل پر مشتمل ترتیب دیا گیا ۔۔۔ اس نصاب کی ضرورت کے مطابق موصوف کی کتاب مسائل نفسیات شائع ہوئی جو نصابی کتاب کی حیثیت سے علی بک ڈپو اردو کفایت اکیڈمی اور غضنفر اکیڈمی سے تیس سال تک شائع ہوتی رہی۔

23. اختباری نفسیات

تبدیل شدہ نظام اور نصاب کے مطابق انٹر سال دوم کے لئے نصاب کو "تجربی نفسیات" سے موسوم کیا گیا۔ فائق صاحب کے نزدیک "تجربہ" (Experience) کا مناسب اور مستعمل ترجمہ ہے چنانچہ انہوں نے ایکسپری منٹل سایکولوجی کا ترجمہ اختباری نفسیات کیا اور اسی نام سے انٹر سال دوم کے لئے کتاب تحریر کی۔) مندرجہ بالا دونوں کتب کے شائع ہونے سے اردو ذریعہ تعلیم کے طلبہ کی ضرورت تو پوری ہوگئی مگر انگریزی ذریعۂ تعلیم کے طلبہ نصابی کتب سے محروم رہے۔ ان طلبہ کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ان کے انگریزی تراجم شائع کئے گئے۔

24. Problems of Psychology

25. Experimental Psychology

مندرجہ بالا کتب پیشتر بیان کردہ کتب مسائل نفسیات اور اختیاری نفسیات کے انگریزی تراجم ہیں جو انگریزی میڈیم کے طلبہ کی ضرورت پوری کرنے کے لئے کئے گئے۔ تراجم کی ضرورت یہ تھی کہ انگریزی میں بھی ایسی کوئی کتاب دستیاب نہیں تھی جو نصابی ضروریات پوری کرتی ہو چنانچہ سینٹ پیٹرکس کالج کے نفسیات کے پروفیسر ڈاکٹر فادر آگسیٹن فرنینڈس نے فائق صاحب کی اجازت اور معاونت سے یہ تراجم کئے جو کفایت اکیڈمی اور غضنفر اکیڈمی سے بار بار شائع ہوئے۔
مندرجہ بالا کتب کے علاوہ پروفیسر فائق صاحب کی دیگر نفسیاتی کتب حسب ذیل ہیں۔

26. نفسیات کے اختیاری مسائل

27. عملی نفسیات (برائے سال اوّل)

28. عملی نفسیات (برائے سال دوم)

29. عملی نفسیات (برائے سال سوم)

30. عملی نفسیات (برائے سال چہارم)




:ہومیو پیتھی

پرفیسر ڈاکٹر محمد فائق نے ۱۹۷۸؁ء میں وفاقی گورنمنٹ اردو کالج میں پروفیسری کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد آگے ترقی کی راہیں مسدود پائیں کہ تعلیم کے میدان میں اس وقت گریڈ ۲۰ کے آگے کوئی ترقی ممکن نہیں تھی۔ غوروفکر کے بعد پروفیسر صاحب نے اپنے منتشر ہومیوپیتھی کے مطالعہ کو مرتب کرنے اور اس میں سند حاصل کرنے کا فیصلہ کیا اور وفاقی حکومت کی اجازت سے سینٹرل ہومیوپیتھک میڈیکل کالج میں داخلہ لے کر چار سالہ نصاب مکمل کرکے پاکستان ہومیو پیتھک کونسل سے ہومیو پیتھی کی سند اور پریکٹس کا اجازت نامہ حاصل کرکے وفاقی حکومت کی اجازت سے پریکٹس شروع کردی اور یہ سلسلہ بحمد اللہ کامیابی کے ساتھ ہنوز جاری ہے۔ پروفیسر صاحب نے ہومیو پیتھی کے طالب علم کی حیثیت سے بھی ہر سال نئے نئے ریکارڈ قائم کرکے اپنی ممتاز علمی حیثیت تسلیم کروائی اپنے چالیس سالہ ہومیو کیرئیر میں بھی ان کا قلم متحرک رہا۔ اس مدت میں انہوں نے ہومیو پیتھی کی ضخیم اور مختصر ۳۰ تیس کتب تصنیف کئیں اور وہ ہومیو ادب جو اب تک اردو دان طبقے کی پہنچ سے باہر تھا اردو میں منتقل ہوگیا۔ ان کتب میں درج ذیل کتب منفرد و ممتاز اور بے مثل ہیں۔

31. ڈاکٹر فائق ہومیو ڈکشنری

یہ کتاب اردو میں ہومیو پیتھی کی پہلی ڈکشنری ہے جس کی درج ذیل دو خصوصیات اسے پورے ہومیو پیتھک ادب میں منفرد اور بے مثل و لاجواب تحریر ثابت کرتی ہیں۔ اول یہ کہ اس میں جن انگریزی اصطلاحات کی شرح کی گئی ہے ان اصطلاحات کے ساتھ بالعموم ان کے ماخذ یا پہلی بار استعمال ہونے کا حوالہ بھی درج کیا گیا ہے۔ دوم یہ کہ اس لغت کے ساتھ چار ایسے ضمیمہ جات شامل کئے گئے ہیں جو کسی لغت میں نہیں ملتے یہ چاروں ضمیمہ جات ہومیو پیتھی کے معالجاتی اور فلسفیانہ تصورات کی بے مثل تشریح ہیں۔ یہ ڈکشنری سواچار سو صفحات پر مشتمل ہے اور اس کا انتساب پروفیسر صاحب نے اپنے مرحوم واحد دوست پروفیسر سید باسط علی جعفری کے نام کیا ہے۔

32. ہومیو سائیکیاٹری

یہ کتاب ہومیو معالجہ اور نفسیاتی طب کا ایک ایسا مرقع ہے جس کا تصور اب سے پہلے کسی نے پیش نہیں کیا وجہ یہ ہے کہ ایسی کتاب لکھنے کے لئے مصنف کا ہومیو پیتھی اور نفسیات دونوں علوم میں مستند ہونا ضروری ہے اور پروفیسر صاحب ہومیو معالج ہونے کے علاوہ نفسیات کے پروفیسر اور بڑے مصنف بھی ہیں صرف برصغیر میں ہی نہیں شاید پوری علمی دنیا میں ایسی کوئی دوسری شخصیت نہیں ہے۔ کتاب ھٰذا میں مصنف نے نفسیات کے معروف امراض یعنی نیوروسیز اور سائکوسیسز کی جملہ اقسام و اشکال کے اسباب صراحت کے ساتھ اور ہر مرض کی علامات وضاحت کے ساتھ بیان کرکے سببیت اور علامتی تصویر Causation اور Symptomatic Picture کے مطابق "مماثل ثابت شدہ علامات" والی دواؤں کی نشاندہی کی ہے جو نہ صرف ہومیو معا لجین کے لئے بلکہ سائیکیاٹرسٹ حضرات کے لئے بھی ایک بیش بہا تحفہ اور خزانۂ معلومات ہیں.

33. کرانک میازم

یہ کتاب بہت ضخیم نہیں ہے مگر مشکل موضوعات کی مکمل شارح ہے۔ ہومیو پیتھی کے کرانک میازمی تصورات کو پروفیسر صاحب نے جس قدر آسان بناکر پیش کیا ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی صرف اردو میں ہی نہیں انگریزی اور جرمنی زبانوں میں بھی اس موضوع پر کم لکھا گیا ہے مگر جن لوگوں نے ہانمیں ہیرنگ، گروس اور کینٹ کو سمجھ کر پڑھا ہے وہی میازمی بنیاد پر دوا تجویز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کتاب ھٰذا نے اس "کاردِ قیق" کو نہایت آسان بنادیا ہے۔

34 to 44. ہومیو سیریز

لائق مصنف نے گیارہ مختصر کتابچوں کے اس سلسلے کو "ہومیو اسکیما" کے حوالے سے ترتیب دے کر امراض کی علاماتی تصویر کے ساتھ مرض کو متنوع اسباب کی نسبت سے نہایت خوبصورتی کے ساتھ واضح کیا ہے۔ اور ہر ایک مرض کے لئے مماثل دوا تجویز کی ہے۔ ذہنی عوارض۔۔۔ سرودماغ کے امراض۔۔۔ آنکھ۔۔۔ ناک۔۔۔ کان۔۔۔ منہ اور حلق کی تکالیف۔۔۔ تنفس۔۔۔ ہاضمہ۔۔۔ اور پیشاب کے عوارض کے علاوہ۔۔۔ مردانہ اور نسوانی امراض کی بھرپور وضاحت اور شفا بخش ادویہ بھی تجویز کی ہیں۔ نئے اور پرانے اکثر معالجین اس سیریز سے استفادہ کررہے ہیں۔

45. ہومیو دوائیں تاثیر اور علامات

یہ کتاب ہومیو پیتھی پر ڈاکٹر فائق کی پہلی کتاب ہے جس میں معاون مصنف کی حیثیت سے ڈاکٹر عبدالماجد صدیقی شریک ہیں۔ معلومات اسلوب بیان اور سلاست و روانی کی بنیاد پر یہ کتاب اہل پیشہ میں نہایت مقبول ہوئی فی الوقت دستیاب نہیں ہے شائع ہوتے ہی ختم ہوگئی تھی کہ ہومیو معالجین نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا تھا۔

46. آزمودہ کلیدی علامت

اس کتاب میں 279 ادویہ کی آزمودہ اور کلیدی علامات اس طرح مرتب کی گئی ہیں کہ یہ کتاب بہترین عام میٹریا میڈیکا کی کتاب ہونے کے ساتھ ڈی۔ ایچ۔ایم۔ایس کے طلبہ کی نصابی دواؤں کا بھی پوری طرح احاطہ کرتی ہے چنانچہ کتاب ہٰذا دو حصوں میں منقسم ہے حصہ اول میں سال اول کی دس دوائیں۔۔۔ سال دوم کی 34 دوائیں۔۔۔ اور سال سوم کی 45 دوائیں۔۔۔ یعنی 79 نصابی دواؤں کی بھرپور تشریح کی گئی ہے اور حصہ دوم میں مزید ایک سو نوے (190) دوائیں عام معالجین کے لئے اس طرح بیان کی گئی ہیں کہ ان کی آزمودہ علامات کی تشریح کے ساتھ ان کا میازمی حوالہ اور بعض امراض سے خصوصی رشتہ بھی بیان کیا گیا ہے پونے تین سو (۲۷۵) سے زائد دوائوں پر مشتمل یہ ہو میو پیتھی کی ایک منفرد اور بیش بہا تصنیف ہے۔

47. معروف ہومیو دوائیں - مع فرہنگ معالجہ

یہ کتاب اردو میں (دائیں جانب ) صفحہ نمبر۔ ۱۰۳ تک 220 معروف دواؤں کا میٹریا میڈیکا ہے اور بائیں جانب صفحہ نمبر ۱ سے صفحہ نمبر ۱۲۷ تک مختلف امراض کے لئے معالجاتی دواؤں کا فرہنگ ہے یہ حصہ انگریزی میں ہے۔ اس کتاب کی انفرادیت یہ ہے کہ اس میں مرض کے نام سے تجویز شدہ دوا کی متعلقہ علامات اردو والے حصہ میں دستیاب ہیں جس سے تجویز کے درست ہونے کی تصدیق ہوجاتی ہے۔

48. عام مرض خاص دوائیں - حصہ اوّل

اصولََا ہومیو دوائوں کو امراض کے نام سے وابستہ کیا جاتا ہے کہ یہاں تجویز کا اصول علامات کی مجموعی شبیہ ہے۔ اگر تزلے کے دس مریض آئیں تو لازم نہیں کہ سب کی دوا ایک ہی ہو کہ مریض میں نزلے کی بعض علامات ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں۔ مگر عرف عام میں مرض کی مشترک اور عام علامات کے حوالے "مرض نام کے ہی ساتھ" بیان کیا جاتا ہے۔ مثلََا نزلہ زکام، بخار، سردرد، خارش، ڈائریا وغیرہ جیسی اصطلاحیں عوامی استعمال میں عام ہیں۔ چنانچہ مصنف نے علاماتی کلّیت کی بنیاد پر "اصئول تجویز" کو ملحوط رکھتے ہوئے دوائوں کی شرح میں امراض کے نام کو بھی نظر انداز نہیں کیا ہے۔زیر نظر کتاب میں 24 امراض کی تشریح اور اس کی اہم دوائیں بیان کی گئی ہیں یہ سارے امراض اپنے معروف انگریزی ناموں کی نسبت سےAسے شروع ہوتے ہیں۔

49. عام مرض خاص دوائیں - حصہ دوم

کتاب ہٰذا میں B سے شروع ہونے والے دس اہم امراض اور C سے شروع ہونے والے 16 امراض کی شرح اور ان کے لئے شفابخش دوائیں بیان کی گئی ہیں۔ مصنف کا ارادہ A سے Z تک تمام معروف امراض اور اس کی ادویہ قلم بند کرنے کا تھا مگر ابھی تک A۔B۔ اور C کے امراض کا احاطہ کرنے میں دو جلدیں درکار ہوئیں جن میں صرف 50 امراض بیان ہوئے ہیں مصنف کے نزدیک اس کام کی تکمیل فردواحد کے ذریعہ مشکل ہے۔

50. چھوٹی ہومیو دوائیں - مع فرہنگ معالجہ

صرف انگریزی اور اردو میں ہی نہیں بلکہ دنیا کی دیگر زبانوں میں بھی میٹریا میڈیکا کی جو کتب دستیاب ہیں بالعموم ان میں بڑی اور معروف دوائیں ہی بیان کی گئی ہیں۔ کم استعمال ہونے والی چھوٹی مگر بہت اہم دوائیں اس طرح نظر انداز کردی گئی ہیں کہ ان کی علامات و استعمال کجا اکثر معالجین کے لئے ان کے نام بھی اجنبی ہیں۔ بائیں سبب ڈاکٹر فائق نے عمیق مطالعہ اور محنت شاقّہ کے بعد زیر نظر کتاب مرتب کی ہے۔ اس کے دو حصہ ہیں۔ دائیں سے بائیں صفحہ 1 سے110 اردو میں ہے جس میں 250 کم استعمال ہونے والی دوائیں ہیں اور بائیں سے دائیں A سے Z تک مختلف امراض و علامات کے لئے انگریزی میں کم مستعمل دواؤں کی فرہنگ معالجہ ہے۔ درج بالا ہومیو پیتھک کتب کے علاوہ فاضل مصنف کی درج ذیل ہومیو پیتھی کی مقبول کتب بھی اہمیت کی حامل ہیں۔ ان کتب کے مشتمالات کا اندازہ ان کے ناموں سے ہی بخوبی ہوجاتا ہے۔ اس لئے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جارہا ہے بلکہ سرورق کی تصاویر کے ساتھ پیش کی جارہی ہیں جن کو شمار کرکے پروفیسر ڈاکٹر فائق صاحب کی تصانیف کی تعداد ساٹھ (60) ہوجاتی ہے۔ پچاس کتب پر سطور بالا میں مختصر تبصرے پیش کئے گئے ہیں درج ذیل دس (10) بغیر تبصرہ ہیں اس کے خود ان کے نام ہی ان کا تعارف ہیں۔

51. ہومیو پیتھی کے جواہر

52. مختص ہومیو دوائیں<

53. بایو کیمسٹری<

54. مرضیاتی اسباب

55. چالیس نوسوڈز

56. انڈوکرائن گلینڈز اور ہارمونز

57. چار بڑے امراض

58. کالج میٹریا میڈیکا (سال اول)

59. کالج میٹریا میڈیکا (تقابلی معالعہ)<

60. ہومیو پیتھی کے بنیادی تصورات

مندرجہ بالا 60 مطبوعہ ضخیم و مختصر کتب کے علاوہ پروفیسر صاحب کی درج ذیل کتب زیر تکمیل ہیں۔

اک شمع رہ گئی ہے - سووہ بھی خموش ہے

:یہ ایک نیم مطبوعہ کتاب ہے نیم مطبوعہ اس لئے کہ یہ شائع نہیں ہوئی اس کے چند کمپیوٹر پرنٹ موجود ہیں۔ یہ کتاب پروفیسر فائق صاحب کے بیٹوں

محمد اویس صدیقی قادری


محمد بلال صدیقی قادری


محمد زید صدیقی قادری


کی مرتب کردہ ہے جس کے دو اجزاء ہیں پہلا جز سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ الحاج شمیم الدین کا ایک مقالہ ہے جو انہوں نے پروفیسر فائق صاحب پر لکھا ہے دوسرے جز میں خود فائق صاحب کی تحریر "بقلم خود" کے عنوان سے ہے۔اس کی اشاعت پر فائق صاحب نے پابندی عائد کی ہوئی ہے کہ یہ کتاب ان کی حیات ظاہرہ میں شائع نہ کی جائے پابندی کی وجہ یہ ہے کہ اس کتاب میں الطاف و اکرام کے متعدد ایسے واقعات ہیں جن کا نفسانی سطح پر قبول کرنا مشکل ہے صرف کاملین و اہل روحانیاں ہی ان کی تصدیق و توثیق و تائید کرسکتے ہیں۔

راز کی بات سرِ بزم نہیں کہہ سکتا
حق بیانی بھی کبھی وجہ سزا ہوتی ہے


لغات خصوصی

یہ زیر ترتیب ایک ایسی لغات ہے جس میں ان الفاظ کا سیاق و سباق و مفہوم بیان کیا گیا ہے جو قرآن حکیم میں استعمال ہوئے ہیں اور ان کے بہت سے مشتقات اردو زبان میں بھی رائج ہیں اور عام زندگی میں بھی بولے اور سمجھے جاتے ہیں ابھی 80 فیصد کام باقی ہے (فائق صاحب کہتے ہیں نہ جانے کب اور کس کے ذریعہ مکمل ہو۔ واللہ اعلم

اسلامی عقائد و اخلاق

یہ زیر تکمیل فائق صاحب کے مطابق ان کی آخری تحریر ہے جب ان سے اس پر اظہار خیال کے لئے کہا گیا تو انہوں نے غالب کا شعر پڑھ دیا۔

دام ہر موج میں ہے حلقۂ صد کامِ نہنگ
دیکھیں کیا گزرے ہے قطر پہ گوہر کو نے تک


مندرجہ بالا کتب کی تصنیف کے علاوہ پروفیسر فائق صاحب کا قریبی تعلق ذرائع ابلاغ سے بھی رہا ہے انہوں نے ریڈیو اور ٹی وی سے بہت سے یادگار پروگرام پیش کئے ہیں اخباروں میں کالم بھی لکھے ہیں۔ رسائل کی ادارت بھی کی ہے۔ دور طالب علمی میں وہ " ماہنامہ سحر" کے مدیر اعلیٰ رہے ہیں۔ جس پر پروفیسر رشید احمد صدیقی جیسے اکابر کے تبصرے موجود ہیں۔ پیشہ ورانہ رسائل میں "ہومیو کیور" ان کی زیر ادارت شائع ہوتا رہا ہے اور آج کے معروف سہ ماہی رسالے مجلہ بدایوں کی بھی ادارت انہوں نے تن تنہا ایک سال تک کی ہے۔ ان کے عہد ادارت کے رسالوں پر ایک بدایونی بزرگ نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا.

آب مجلہ میں بدایونی رنگ نمایاں ہے"۔"

جب مندرجہ بالا تصنیف و تالیف کے کارناموں اور خدمات پر ان سے تبصرہ کرنے کے لئے کہا گیا تو انہوں نے اپنا ایک شعر پڑھ کر بات ختم کردی۔

وہ جس کو زندگی کہتے ہیں اس پورے تسلسل میں
اگر تو ہے تو سب کچھ ہے وگرنہ سب خسارہ ہے


آخر میں یہ بیان کرنا بے جانہ ہوگا کہ مندرجہ بالا کتب میں ۴۰ سے زائد کتب سید شعیب افتخار مسعودی (03062559082) نے کمپوز کی ہوئی ہیں اور ان کے ہی زیر اہتمام شائع ہوئی ہیں۔

پیش کش
محمد اویس صدیقی قادری
محمد بلال صدیقی قادری
محمد زید صدیقی قادری

مصنف کا تعارفی خاکہ

زیر نظر تعارفی خاکہ ہم تین بھائیوں کی مشترکہ کوشش ہے اور ہم تینوں انتہائی فخر و مسرت کے ساتھ اسی اُوپر بارگاہ ایزدی میں بہ صمیم قلب شکر گزار ہیں کہ اللّٰہ نے پروفیسر ڈاکٹر محمد فائق صدیقی قادری جیسے عظیم المرتبت والد کی آغوشِ عاطفت میں تربیت عطا کی۔ ابّو کی عمر اس وقت قمری کلینڈر سے ۸۲ سال ہوچکی ہے مگر آج بھی قلم ان کے ہاتھ سے نہیں چھوٹا ہے۔ وفاقی گورنمنٹ اردو کالج کراچی میں چالیس (۴۰) سال تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد وہ اب سے اٹھارہ (۱۸) سال قبل نفسیات و تعلیم کے پروفیسر کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ۱۹۵۶ء سے آج تک لکھتے لکھتے نہ ان کا قلم تھکا اور نہ وہ خود تھکے ہیں۔۔۔ اس وقت ان کی نصابی و غیرنصابی کتب کی تعداد ساٹھ (۶۰) سے زائد ہے۔ ان کا قیام ۱۹۵۶ء سے کراچی میں ہے۔ پیدائش ہندوستان کے مشہور شہرمدینۃ الاولیاء "بدایو" کی ہے۔ تاریخ پیدائش ۲۱ شعبان ۱۳۵۴ہجری ہے۔نسلاً نجیب الطرفین صدیقی ہیں۔ از روئے مسلک قادری ہیں۔ حافظہ قابل رشک ہے، زبان و بیان پر قدرت کامل ہے۔ مزاج میں سادگی ہے۔ نفیءِ ذات ان کے مرشد کامل کا طریقہ ہے۔ مطالعہ عمیق ہے۔ آج بھی بغیر لغت آگے نہیں بڑھتے۔ ان کے پاس موجود لغات کی تعداد پچاس سے زائد ہے جو مختلف شعبہ ہائے علم کا انگریزی اردو اور فارسی میں احاطہ کرتی ہیں۔ اب سے پچاس سال قبل وہ ریڈیو پاکستان کے بے مثال کمپیئر مشہور تھے۔ صحافت سے بھی وابستگی تھی وہ کئی ادبی اور طبّی ماہناموں کے مدیر اعلیٰ بھی رہے ہیں۔ اخبارات میں کالم بھی لکھے ہیں۔ کراچی کی علمی و ادبی محفلوں کی جان رہے ہیں۔ چالیس (۴۰) سال سے زائد قلم کے ساتھ مائیک بھی ہاتھ میں رہا ہے۔ ماضی میں نہایت انجمن آرا تھے مگر ۱۹۹۰ء میں حج کے بعد سے مزاج میں تبدیلی آئی ہے اور آج گوشہ گیر ہیں اپنا یہ شعر اکثر دوہراتے ہیں۔

رابطہ کریں

12356 ولی گرین سڑک
لندن، (کینٹکی) برطانیہ
ٹیلی فون 40741-9233
موبائل (606) 877-1749